3 اگست 2026 - 18:15
فلسطینی تجزیہ کار: دمیاط گیس تنصیبات پر حملہ ایران کے خلاف علاقائی محاذ کھولنے کی کوشش ہو سکتا ہے

فلسطینی تجزیہ کار ایہاب زکی کا کہنا ہے کہ مصر کے دمیاط گیس تنصیبات پر حملے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں، کیونکہ یہ واقعہ ممکنہ طور پر ایران کے خلاف علاقائی ممالک کو محاذ آرائی میں دھکیلنے کی ایک منصوبہ بندی کا حصہ ہو سکتا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، فلسطینی مصنف اور تجزیہ کار ایہاب زکی نے اپنے ایک تجزیاتی مضمون میں صہیونی رژیم کی خفیہ کارروائیوں کے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اسرائیل اپنے تزویراتی اہداف کے حصول کے لیے ایسی کارروائیاں کرنے اور ان کا الزام دوسروں پر عائد کرنے سے گریز نہیں کرتا۔

انہوں نے 1967 میں امریکی بحری جہاز یو ایس ایس لیبرٹی پر حملے اور 1950 کی دہائی کے لاوون اسکینڈل جیسے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہی مثالوں کی بنیاد پر مصر کے دمیاط گیس تنصیبات پر حملے میں تل ابیب کے ممکنہ کردار کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، اس لیے اس واقعے کی تمام جہات کی شفاف تحقیقات ضروری ہیں۔

ایہاب زکی کے مطابق، ایران کے ساتھ حالیہ کشیدگی میں اپنے مقاصد حاصل نہ کر پانے کے بعد امریکہ اور صہیونی رژیم ایک تزویراتی تعطل کا شکار ہیں۔ ان کے بقول، عسکری اہداف کے حصول میں ناکامی، اتحادیوں کو مؤثر تحفظ فراہم نہ کر سکنا اور بحران کے نتائج پر قابو نہ پانا ایسے عوامل ہیں جنہوں نے خطے کے مزید ممالک کو تنازع میں شامل کرنے کے امکانات کو تقویت دی ہے۔

انہوں نے بعض صہیونی حکام کی جانب سے مبینہ "سنی اتحاد" کی باتوں کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ دمیاط جیسے واقعات کا الزام ایران پر عائد کرنے کی کوشش کا مقصد رائے عامہ کو متاثر کرنا اور مصر سمیت بعض علاقائی ممالک کو تہران کے خلاف صف بندی پر آمادہ کرنا ہو سکتا ہے۔

فلسطینی تجزیہ کار نے خبردار کیا کہ اگر اس نوعیت کے واقعات کا سلسلہ جاری رہا تو بتدریج عوامی رائے کو ایک مخصوص سمت میں موڑا جا سکتا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ خطے میں مزید کشیدگی سے بچنے کے لیے ایسے واقعات کی حقیقت سامنے لانا اور بغیر ثبوت کسی بھی فریق پر ذمہ داری عائد کرنے سے گریز کرنا ضروری ہے۔

ایہاب زکی نے آخر میں دعویٰ کیا کہ صہیونی رژیم ماضی میں بھی مبینہ "فالس فلیگ"طرز کی کارروائیوں سے فائدہ اٹھاتی رہی ہے اور سیاسی و اقتصادی اعتبار سے خطے میں بحرانوں کے پھیلاؤ اور نئے فریقوں کی شمولیت سے سب سے زیادہ فائدہ اسی کو پہنچتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha